پیر 8 جون 2026 - 15:20
دشمن نفسیاتی حربوں سے ہماری برداشت کی صلاحیت جانچ رہا ہے / ہائبرڈ جنگ میں مبلغین کی ذمہ داری زیادہ ہے

حوزہ / حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے جہادِ تبیین میں طلبہ و فضلاء کے کردار پر زور دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو "برداشت کی صلاحیت" اور "ہدفمند صبر" کی طرف دعوت دیں تاکہ دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے رکن اور حوزه و یونیورسٹی کے ریسرچ اینسٹی ٹیوٹ کے سائیکالوجی گروپ کے مدیر آیت‌اللہ محمد غروی نے ہائبرڈ جنگ اور جمہوریہ اسلامی ایران کے خلاف دشمن کے معاشی دباؤوں کے پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: دشمن بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے عوام کی برداشت کی صلاحیت ختم ہو جائے۔ ایران پر ظالمانہ پابندیوں کی شکل میں جو دباؤ ڈالا گیا ہے، وہ اسی حکمت عملی کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھا کر لوگوں کو مشکلات سے دوچار کر دیں۔

جامعه مدرسین حوزه علمیه قم کے رکن نے کہا: ہماری معیشت، اگرچہ پیداوار اور داخلی مسائل کے شعبے میں کمزوریاں رکھتی ہے لیکن ایران کے خلاف موجودہ پابندیاں دنیا میں بے مثال ہیں۔ کسی بھی دہائی میں اور کسی بھی شدت کے ساتھ، کوئی ملک اس حد تک دباؤ کا شکار نہیں رہا۔

انہوں نے مزید کہا: یہ جان لینا چاہیے کہ بڑے ممالک اور سپر پاورز بھی اگر اس حجم اور وسعت کی حامل پابندیوں کا سامنا کرتے تو انہیں بھی انتہائی شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ دشمن اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے دباؤ کو روز بروز بڑھا رہا ہے۔

آیت اللہ غروی نے نظام استعمار کے شوم اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ تمام دباؤ اس لیے ہے کہ لوگ معاشی دباؤ کا شکار ہو جائیں اور اپنی برداشت کی صلاحیت کھو دیں۔ اس برداشت میں کمی کا نتیجہ خطرناک داخلی فسادات، زمینی، فضائی اور آبی سرحدوں سے دشمن کا براہ راست داخلہ اور آخر کار ملک کے ٹکڑے کرنا یا ذمہ داروں کو استکبار کی زیادتیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا: بعض گذشتہ واقعات کو دیکھیں تو ان میں دشمن نے پہلے ہڑتالوں سے آغاز کیا اور پھر وہ اسے پھیلاتے ہوئے تخریب اور قتل کی طرف بڑھا، اس طرح اس نے اپنی اصلیت ظاہر کی۔ جب تک احتجاج پُرامن اور نعروں تک محدود تھا، قابل برداشت تھا لیکن جب دشمن نے قتل، تخریب اور تباہی و فساد پر کام شروع کیا تو سیکیورٹی فورسز اور پھر خود عوام نے میدان میں آ کر فتنہ پردازوں کو بھرپور جواب دیا۔

حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے کہا: آج بھی دشمن نفسیاتی کھیلوں سے ہماری برداشت کی صلاحیت کو جانچ رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جنگی دباؤ، تیل کی برآمد اور اشیاء کی درآمد میں خلل اور زمینی سرحدوں کو بند کر کے وہ ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں لیکن اس کے یہ تمام حساب و کتاب غلط ثابت ہوئے ہیں اور پھر بھی ان شاء اللہ دشمن کو ہر محاذ پر شکست فاش کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha